67

پی ٹی آئی خود چاہتی ہے بانی جیل میں رہیں، گورنر کے پی

پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی خود چاہتی ہے کہ اس کے بانی جیل میں ہی رہیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اپنے رہنما کہتے ہیں کہ جتنی دیر بانی جیل میں رہیں گے اتنا ہی انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بانی کو اپنی ہی قیادت پر اعتماد نہیں کہ وہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کا انتخاب کر سکیں۔

گورنر کے پی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "کفن باندھنے والی فورس" بھی اب کہیں نظر نہیں آ رہی، جبکہ ایپکس کمیٹی اجلاس کے بعد سہیل آفریدی کے غائب ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔

انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن ضروری ہے، اور اس معاملے پر وہ سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے صحت کے شعبے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سال میں خیبر پختونخوا میں ایسا کوئی اسپتال نہیں بنایا جا سکا جہاں بانی کا علاج ہو سکے، اسی لیے آج بھی ان کا علاج اسلام آباد میں کیا جا رہا ہے۔

عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ آج بڑی عالمی طاقتیں بھی پاکستان پر اعتماد کر رہی ہیں، اور فیلڈ مارشل کا کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جبکہ مؤثر سفارتکاری سے پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے۔

انہوں نے افغانستان سے متعلق گفتگو میں کہا کہ طالبان حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، اور پاکستان کو جہاں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے ملیں گے وہاں کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔

گورنر کے مطابق افغانستان سے متعلق دہشت گردی کے ثبوت قطر، ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے، جبکہ دوحہ مذاکرات کے بعد بھی افغان حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ طورخم بارڈر فی الحال صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھولا جا رہا ہے، مکمل طور پر بارڈر کھولنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

گورنر کے پی کے اس بیان نے ملکی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔