ایک امریکی تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں قائم طالبان رجیم کی دہشت گردی سے متعلق مبینہ حمایت اور انتہا پسندانہ پالیسیاں عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کے جابرانہ قوانین نہ صرف افغان شہریوں کے بنیادی حقوق بلکہ ملک کے مستقبل کے لیے بھی سنگین خطرہ قرار دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے باعث افغانستان کی قانونی حیثیت اور شہری آزادیوں کو شدید خدشات لاحق ہیں۔
تھنک ٹینک نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان کے القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کے ساتھ روابط اب بھی برقرار ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے کے باعث طالبان حکومت افغانستان کی مکمل نمائندگی کے لیے قانونی درجہ حاصل نہیں کر سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔









