116

ہیپاٹائٹس ای کے علاج میں اہم پیش رفت، نئی دوا مؤثر قرار

برلن/بیجنگ: حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے کلینیکل ٹرائلز میں شامل ایک دوا ہیپاٹائٹس ای وائرس کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جسے ماہرین صحت نے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

یہ تحقیق 6 مارچ 2026 کو معروف طبی جریدے گٹ میں شائع ہوئی، جس کے مطابق اس نئی دریافت سے وائرل ہیپاٹائٹس کے خلاف عالمی سطح پر جاری کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس ای ایک خطرناک جگر کا انفیکشن ہے، جو دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 70 ہزار اموات کا سبب بنتا ہے۔ تاحال اس بیماری کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج، تاہم نئی تحقیق سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔

یہ تحقیق جرمنی کے شہر بوخوم اور ہائیڈلبرگ سمیت چین کے دارالحکومت بیجنگ میں موجود سائنس دانوں کی مشترکہ کاوش ہے۔ تحقیق کے دوران “Bmnfosbuvir” نامی مرکب کو ہیپاٹائٹس ای وائرس کے خلاف انتہائی مؤثر پایا گیا، جو نیوکلیوٹائیڈ/نیوکلیوسائیڈ اینالاگ ادویات کے ذخیرے میں سے منتخب کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ دوا پہلے ہی ہیپاٹائٹس سی کے لیے آزمائشی مراحل میں شامل ہے، اس لیے اسے نسبتاً کم وقت میں ہیپاٹائٹس ای کے علاج کے طور پر متعارف کرانے کے امکانات روشن ہیں۔

سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ حتمی نتائج کے لیے مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں ضروری ہیں، تاہم ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور اگر یہ سلسلہ کامیابی سے جاری رہا تو مستقبل قریب میں یہ پیش رفت لاکھوں قیمتی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔