51

آبنائے ہرمز بحران، تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرا بڑا اضافہ

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مال بردار جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

 

برینٹ کروڈ 1.70 ڈالر اضافے کے بعد 79.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ سیشن کے دوران یہ 82.37 ڈالر کی سطح بھی چھو گیا جو جنوری 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.17 ڈالر اضافے کے ساتھ 72.40 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال نے منڈیوں کو ہلا دیا

کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ دیکھنے میں آیا جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ گزرگاہ بند کر دی گئی ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

عالمی تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی اسی اسٹریٹجک گزرگاہ سے ہوتی ہے، جس کے باعث سپلائی میں تعطل کے خدشات شدید ہو گئے ہیں۔ متعدد آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہازوں نے متبادل راستے اختیار کر لیے جبکہ انشورنس کمپنیوں نے کوریج منسوخ کرنا شروع کر دی ہے۔

 

جنگ طول پکڑنے کا خدشہ

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کچھ وقت لے سکتی ہے لیکن برسوں تک جاری نہیں رہے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق فوری کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع طویل ہوا یا توانائی کے مزید انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔

سعودی عرب کی ریفائنری عارضی بند

ادھر سعودی عرب نے ڈرون حملے کے بعد اپنی سب سے بڑی آئل ریفائنری عارضی طور پر بند کر دی، جس کے نتیجے میں ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 

امریکی ڈیزل فیوچرز دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جبکہ یورپی گیس آئل میں بھی نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔

قیمتیں 150 ڈالر تک جا سکتی ہیں؟

ایک عالمی بروکریج ادارے نے 2026 کے لیے برینٹ خام تیل کی متوقع قیمت 65 ڈالر سے بڑھا کر 80 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید اور طویل جنگ کی صورت میں قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہے گی، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار رہے گی۔