58

اسلام آباد کے نوجوان نے کباڑ سے دیوہیکل مجسمے تخلیق کر کے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد کے نواحی علاقے میں قائم ایک ورکشاپ میں پاکستانی آرٹسٹ احتشام جدون ضائع شدہ گاڑیوں کے پرزوں کو دیوہیکل اور دلکش مجسموں میں تبدیل کر رہے ہیں، جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔

35 سالہ مجسمہ ساز کے اسٹوڈیو میں گیئرز، زنجیریں، ہب کیپس اور انجن کے پرزے بکھرے نظر آتے ہیں، مگر انہی صنعتی کباڑ کے ڈھیر سے تخلیق پاتا ہے ایک شاہکار۔ ان کے فن پارے مشہور ہالی ووڈ فلم Transformers اور ڈائناسور تھیم سے متاثر ہیں۔

ان کی سب سے نمایاں تخلیق Optimus Prime کا دیوہیکل مجسمہ ہے، جسے مکمل کرنے میں کئی ماہ لگے اور اس کے 90 فیصد سے زائد حصے ناکارہ گاڑیوں کے پرزوں سے تیار کیے گئے ہیں۔ بازو موٹر بائیک اسپرنگس اور گیئرز سے، کندھے گاڑی کے رم سے، ریڑھ کی ہڈی فیول ٹینک سے، گھٹنے زنجیروں اور سسپنشن پارٹس سے اور آنکھیں گاڑی کے بیرنگز سے تیار کی گئی ہیں۔

احتشام جدون کے مطابق وہ دھات کے ٹکڑوں کو دیکھتے ہی ذہنی طور پر ان کی نئی شکل تصور کر لیتے ہیں اور پھر اسے حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔ وہ ہر ہفتے اسلام آباد کے کباڑخانوں کا رخ کرتے ہیں اور بظاہر بیکار سمجھی جانے والی اشیاء کو قیمتی فن پاروں میں ڈھال دیتے ہیں۔

ان کے فن پارے طاقت اور جارحانہ انداز کے حامل ہیں اور انسانی توانائی و عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ کباڑ خانے کے ایک مالک نے کہا کہ جو چیز دوسروں کے لیے فضول ہوتی ہے، احتشام جدون اسے اپنے ہنر سے انمول شاہکار بنا دیتے ہیں۔