37

کافی کے استعمال سے ذیابیطس پر اثرات، فائدے یا نقصان؟

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنے دن کا آغاز کافی کے بغیر ادھورا سمجھتے ہیں، مگر ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ آیا کافی ان کے خون میں شکر کی سطح کے لیے مفید ہے یا مضر۔ ماہرین کے مطابق کافی کا بلڈ شوگر پر اثر کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں کافی پینے کا وقت، اس کے اجزاء اور کیفین کے اثرات کے حوالے سے فرد کی حساسیت شامل ہے۔

تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ سادہ بلیک کافی عموماً خون میں شکر کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں کرتی۔ امریکی ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن کے مطابق بغیر چینی کے کافی معتدل مقدار میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ ہو سکتی ہے، تاہم انفرادی ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔

انسانی جسم میں شکر کی سطح دن بھر قدرتی طور پر اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے، خاص طور پر کھانے کے بعد، جب کاربوہائیڈریٹس گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس دوران کافی کا اثر دیگر غذائی عوامل کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کافی نقصان دہ تب ہو سکتی ہے جب اس میں چینی، میٹھے سیرپ یا زیادہ کیلوریز والے کریمر شامل کیے جائیں، کیونکہ یہ بلڈ شوگر میں عارضی اضافہ کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ کیفین بعض افراد میں اسٹریس ہارمونز، خصوصاً کورٹیسول، کو متحرک کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جگر سے اضافی گلوکوز خارج ہو سکتا ہے۔ یہ اثر خاص طور پر خالی پیٹ کافی پینے کی صورت میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور کیفین کے حساس افراد میں زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو سکتا ہے۔

بلڈ شوگر پر منفی اثرات کم کرنے کے طریقے

کافی کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے ماہرین صحت کے مطابق بہتر ہے کہ کافی کھانے کے ساتھ پی جائے، خاص طور پر اگر خوراک میں پروٹین یا صحت مند چکنائی شامل ہو۔ چینی اور میٹھے سیرپ کے استعمال سے گریز کریں یا شوگر فری متبادل اختیار کریں۔ خالی پیٹ زیادہ کیفین والی کافی سے پرہیز کریں اور بلڈ شوگر کی باقاعدہ نگرانی کریں تاکہ انفرادی ردعمل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔