24

امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف تاریخی مقدمہ

امریکا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف ایک اہم اور تاریخی مقدمہ زیرِ سماعت ہے، جو مستقبل میں ان کمپنیوں کے آپریٹ کرنے کے طریقۂ کار کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔

لاس اینجلس کی ایک اعلیٰ عدالت میں دائر اس مقدمے میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز کو جان بوجھ کر نشہ آور بنایا، بالکل اسی طرح جیسے 1980 کی دہائی میں تمباکو اور سگریٹ کی صنعت نے صارفین کو لت میں مبتلا کیا تھا۔

اس کیس کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 22 بیل ویدر مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ پہلے مقدمے کی سماعت کے دوران پیر سے ابتدائی بیانات کا آغاز ہو رہا ہے، جس میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سمیت دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان کے بیانات متوقع ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کو آن لائن نقصان اور ذہنی اثرات کے الزامات پر عدالتوں میں گھسیٹنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم اب تک یہ کیسز کامیاب نہیں ہو سکے۔

ان مقدمات میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاع کی بنیاد امریکا کے مواصلاتی ایکٹ کے سیکشن 230 پر رہی ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو اس بنیاد پر تحفظ فراہم کرتا ہے کہ وہ تھرڈ پارٹی مواد شائع کرتے ہیں۔

سیکشن 230 کے تحت صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے مواد کی قانونی ذمہ داری پلیٹ فارمز پر عائد نہیں ہوتی، تاہم اس نئے مقدمے میں اس قانون کی تشریح کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔