46

بھارت کی ایران پالیسی پر سوالات، تین ایرانی تیل بردار جہاز ضبط

بھارت کی ایران سے متعلق خارجہ پالیسی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جہاں چابہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد بھارتی حکام نے تین ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر لیے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام کے تحت ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی نامی آئل ٹینکروں کو تحویل میں لیا۔ یہ کارروائی ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر کی گئی، جبکہ جہاز ایران سے منسلک تھے اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اس سے قبل امریکی دباؤ کے باعث چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے دستبردار ہو چکا ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ شراکت داری کے دعوے جاری رہتے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکا کی پابندیاں لاگو ہونے سے قبل بھارت نے ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی ادائیگی بھی کر دی تھی۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی بھارت کی متضاد اور موقع پرستانہ خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چابہار منصوبے سے علیحدگی کے بعد اس نوعیت کے اقدامات ایران کے ساتھ اعتماد کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور خطے میں بھارت کے سفارتی کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔