94

او آئی سی ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز: 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونی انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اسلامی ممالک پر مشتمل او آئی سی ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری صحت کے شعبے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور اسلامی ممالک کو اس حوالے سے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

 

او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان میں 24 کروڑ سے زائد آبادی ہے، جس میں ہر سال تقریباً 60 لاکھ اضافہ ہوتا ہے، اس لیے ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونی انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن فوری طور پر استعداد بڑھانا ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر کی کمی نہیں اور قومی ادارہ صحت جیسے مضبوط ادارے موجود ہیں، تاہم ویکسین کی تیاری منافع بخش کاروبار نہیں، اس لیے مضبوط اور قابل اعتماد پارٹنر کی ضرورت ہے۔ پاکستان چین، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب گزشتہ 10 برسوں سے ویکسین کی تیاری میں تجربہ رکھتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ قومی ویکسین پالیسی تیار کی ہے، جس کے تحت ایک کمپنی صرف ایک ویکسین تیار کرے گی تاکہ معیار بہتر ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور او آئی سی ویکسین الائنس پر شارٹ ٹرم، میڈیم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر فوری کام شروع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ویکسین کی قلت پر معلوم ہوا کہ عالمی ادارہ "گاوی" بھارت سے ویکسین خرید کر پاکستان کو سپلائی کر رہا تھا، جس کے بعد مستقل منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند ماحول، صحت مند قوم اور معاشی استحکام کا تعلق قومی سلامتی سے براہِ راست ہے، اس لیے ویکسین میں خود کفالت ضروری ہے۔