38

گردے کے امراض میں عالمی سطح پر اضافہ، صحت مند گردوں کے لیے احتیاطی تدابیر

دنیا بھر میں گردے کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور یہ اب اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گردے جسم کے لیے انتہائی اہم اعضاء ہیں جو خون کو صاف کرتے ہیں، فضلہ خارج کرتے ہیں اور نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ تاہم، بلڈ شوگر، بلڈ پریشر، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی گردوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں جس سے گردے کی ناکامی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عالمی تحقیق کے مطابق: تقریباً 788 ملین افراد طویل عرصے تک گردے کی بیماری کا شکار ہیں جو سال 1990 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال تقریباً 1.5 ملین افراد گردے کی ناکامی کے سبب زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

گردے کو صحت مند رکھنے کے اہم طریقے:

بلڈ شوگر کو قابو میں رکھیں: زیادہ شوگر گردوں کی فلٹریشن صلاحیت کو کمزور کر سکتی ہے۔

بلڈ پریشر مستحکم رکھیں: ہائی بلڈ پریشر گردوں کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر ان کی کارکردگی متاثر کرتا ہے۔

ادویات کا بے جا استعمال نہ کریں: درد کش اور این ایس اے آئی ڈی (NSAIDs) دوائیں طویل استعمال پر گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

پروٹین کا متوازن استعمال کریں: ضرورت سے زیادہ پروٹین گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔

روزانہ مناسب پانی پئیں: پانی گردوں کو فضلہ خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

نقصان دہ کیمیکلز سے بچیں: کھانے، پانی یا جلد پر لگنے والے زہریلے کیمیکلز گردوں کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔

خاندانی صحت سے آگاہ رہیں: اگر خاندان میں کسی کو گردے کے امراض ہیں تو باقاعدگی سے چیک اپ کروائیں۔

وزن قابو میں رکھیں: زیادہ وزن گردوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور ذیابیطس و بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

باقاعدہ گردوں کی جانچ کروائیں: خون اور پیشاب کے ٹیسٹ بیماری کے ابتدائی اشارے وقت پر سامنے لاتے ہیں۔

صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں: متوازن غذا، مناسب نیند اور روزانہ ورزش گردوں کی کارکردگی بہتر بناتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کی اہمیت: گردے اکثر "خاموش قاتل" کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی بیماریوں کی ابتدائی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں۔ تاہم، ان احتیاطی تدابیر کو اپنا کر آپ گردوں کی صحت کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور ان خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔