88

پاکستان 2031 تک مقامی ویکسین سازی پر توجہ، لاگت میں کمی کی تیاری

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں ہوتی۔ مقامی ویکسین سازی نہ ہونے کی صورت میں 2031 تک سالانہ لاگت 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جو قومی معیشت پر بڑا بوجھ بنے گا۔

مصطفی کمال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور ہر سال تقریباً 62 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ حکومت یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتی ہے، جس پر سالانہ تقریباً 400 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔ اس میں 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار ادا کرتے ہیں جبکہ 51 فیصد حکومت خود برداشت کرتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ 2031 کے بعد بین الاقوامی امداد ختم ہو جائے گی، لہٰذا مقامی ویکسین سازی پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ جنگ کے دوران ویکسین پاکستان نہیں آ سکی، اور ہم گاوی کے ذریعے بھارت سے ویکسین منگواتے رہے ہیں۔ مستقبل میں پاکستان خود ویکسین تیار کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

وزیر صحت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ 10 سال سے ویکسین پر کام کر رہا ہے اور انڈونیشیا سالانہ دو ملین ڈوز تیار کر رہا ہے۔ مصطفی کمال نے کہا: "ہم نیوکلیئر طاقت ہیں، ہم نے جے ایف 17 بنایا تو ویکسین بھی بنا سکتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ مقامی ویکسین سازی سے مالی بوجھ کم ہوگا، قومی معیشت مستحکم ہوگی اور صحت عامہ میں خود کفالت ممکن ہوگی۔