142

اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کے لیے جامع منصوبہ

وفاقی حکومت نے اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کے لیے پانچ سالہ جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد قانونی تجارت میں اضافہ، رجسٹریشن اور عالمی منڈی تک رسائی کو مضبوط بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت اگلے پانچ سال میں 610 برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی نمائش کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی کاروبار کی رجسٹریشن، صوبائی ہم آہنگی اور سہولیات کے لیے مرکزی اتھارٹی بنانے کی تجویز بھی شامل ہے، جس میں وفاقی و صوبائی نمائندے شامل ہوں گے۔ اس اتھارٹی کے زیرِ نگرانی قیمتی پتھروں کی پالیسی تیار کی جائے گی۔

منصوبے کے تحت نیشنل ورائٹی آفس قائم کیا جائے گا اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ برآمد کنندگان کے لیے لین دین کو آسان بنانے کے لیے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کے لیے 6 ورکنگ گروپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں بینکاری و مالی امور میں بہتری، غیر فروخت شدہ مال کی ری فنڈنگ، کان کنی میں جدت، اور کاروبار کی رجسٹریشن شامل ہیں۔

حکام کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6 کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے، جبکہ تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی سہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 450 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں، جن میں 200 ملین قیراط یاقوت، 70 ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر شامل ہیں۔ موجودہ پرانے طریقوں سے پراسیسنگ کے باعث 70 فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہو رہے ہیں، جسے اس منصوبے کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔