جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) خیبرپختونخوا نے قبائلی اور ملحقہ اضلاع کے لیے قائم کی گئی 48 رکنی کونسل کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی ارکان کو اس کا حصہ نہ بننے اور فوری طور پر استعفے دینے کی ہدایت کردی ہے۔
جے یو آئی کے مطابق پارٹی قیادت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ جماعت کا کوئی بھی رکن اضلاع کی سطح پر قائم کردہ ان کمیٹیوں میں شامل نہ رہے۔ اگر کوئی رکن پہلے سے ان کمیٹیوں کا حصہ ہے تو وہ فوری طور پر استعفیٰ دے۔
مولانا عطاء الرحمن کی تنظیموں کو ہدایات
جے یو آئی خیبرپختونخوا کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے صوبے بھر کی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ پارٹی کا کوئی رکن متعلقہ کمیٹیوں میں شامل نہ ہو اور پہلے سے شامل ارکان فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔
48 رکنی کونسل کیوں قائم کی گئی؟
قبائلی اور ملحقہ اضلاع میں مقامی آبادی کو ترقیاتی فیصلوں میں نمائندگی دینے اور علاقائی ترقیاتی امور کی نگرانی کے لیے 48 رکنی کونسل قائم کی گئی ہے۔
تاہم جمعیت علمائے اسلام نے کونسل کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے اس میں نمائندگی لینے سے انکار کردیا ہے۔ جماعت نے اپنے ارکان کو بھی اس کونسل اور متعلقہ کمیٹیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
جے یو آئی کے اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا میں کونسل کی تشکیل اور اس میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کا معاملہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔









