5

امریکا ایران کی شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز کھولنے کو تیار ہیں: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پیش کی گئی ایران کی سات روزہ تجویز اب بھی برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرلے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ ساتویں روز مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔ 

بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے 52ویں اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی پیشکش برقرار

عباس عراقچی کے مطابق ایران نے امریکا کو سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ایران کی پیشکش تاحال برقرار ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکی حکومت ایران کی شرائط قبول کرلیتی ہے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولنے اور ساتویں روز مذاکرات شروع کرنے کا راستہ نکل سکتا ہے۔ 

یمن سے متعلق قرارداد پر ایران کا مؤقف

ایرانی وزیر خارجہ نے او آئی سی اجلاس میں یمن کی صورت حال پر ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک نے اپنے مؤقف پیش کیے، جن میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔

عباس عراقچی نے یمن سے متعلق قرارداد میں منصفانہ اور متوازن مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرسکتا جس میں توازن اور انصاف کو مدنظر نہ رکھا گیا ہو۔

دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں ایرانی قوم کے حقوق اور قومی وقار کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ 

عراقی وزیراعظم سے بھی ملاقات

دریں اثنا عباس عراقچی نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے بھی ملاقات کی، جس میں سعودی عرب، یمن کی صورت حال اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں یمن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے ممکنہ طریقوں پر بھی گفتگو ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی بحالی اور مذاکرات کے آغاز سے متعلق اختلافات برقرار ہیں۔ ایران کی تجویز پر عمل درآمد کا انحصار دونوں فریقوں کے درمیان شرائط پر اتفاق اور سفارتی پیش رفت پر ہوگا۔