3

مہنگائی کا دباؤ برقرار، ایک ہفتے میں 23 اشیائے ضروریہ مہنگی

ملک میں مسلسل 9 ہفتے مہنگائی بڑھنے کے بعد حالیہ ہفتے اس کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم عام استعمال کی 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات برقرار رکھی ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار 0.04 فیصد کم ہوئی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 11.38 فیصد رہی۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 7 اشیا سستی ہوئیں، جبکہ 21 اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں معمولی کمی کے باوجود گھریلو اخراجات پر دباؤ برقرار ہے۔

چکن، آٹا اور دالیں مہنگی ہوگئیں

رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے چکن کی قیمت میں 3.31 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 3.36 فیصد اضافہ ہوا۔ دال چنا 4.97 فیصد، دال ماش 0.98 فیصد اور دال مسور 0.65 فیصد مہنگی ہوئی۔

اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں 0.42 فیصد، ڈیزل میں 0.47 فیصد، جلانے والی لکڑی میں 0.69 فیصد اور چائے کی قیمت میں 0.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

ٹماٹر اور پیاز سستے، چینی کی قیمت میں بھی کمی

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 23.05 فیصد کمی ہوئی، جبکہ پیاز 4.90 فیصد اور کیلے 2.59 فیصد سستے ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 0.70 فیصد، چینی میں 0.62 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 0.36 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم اشیا کی قیمتوں میں یہ کمی مجموعی طور پر مہنگی ہونے والی اشیا کی تعداد اور گھریلو اخراجات کے دباؤ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکی۔

کم آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کا دباؤ برقرار

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مختلف آمدنی والے طبقوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 8.19 فیصد رہی، جبکہ 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 10.11 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 8.99 فیصد، جبکہ 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے 9.54 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی والے طبقے کے لیے سالانہ مہنگائی کی شرح 12.09 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

مہنگائی میں معمولی کمی، مگر قیمتوں کا دباؤ برقرار

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق مسلسل 9 ہفتوں کے اضافے کے بعد مہنگائی کی رفتار میں کمی ضرور آئی ہے، لیکن چکن، آٹا اور دالوں سمیت متعدد ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ صارفین کو ریلیف محدود رہا۔ آنے والے ہفتوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا رجحان عوام کے گھریلو بجٹ کے لیے اہم رہے گا۔