امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیٹی زکریا کی قانونی قابلیت اور پیشہ ورانہ تجربے پر بحث شدت اختیار کرگئی۔ کیٹی زکریا نے اعتراف کیا ہے کہ وہ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بار کا امتحان پاس نہیں کرسکی تھیں اور انہوں نے دوبارہ امتحان بھی نہیں دیا۔
رپورٹس کے مطابق کیٹی زکریا کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات ان کی وائٹ ہاؤس میں پہلی پریس بریفنگ کے بعد سامنے آئے، جہاں ان کے جوابات اور پیشکش پر بعض صحافیوں اور سیاسی مبصرین نے تنقید کی۔ اس معاملے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں وکیل قرار دیے جانے پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
بار امتحان سے متعلق سوال پر کیا جواب دیا؟
کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ تاہم، ان کی قانونی اسناد کے بارے میں سوالات اٹھنے کے بعد انہوں نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی کہ وہ کیلیفورنیا کا بار امتحان پاس نہیں کرسکی تھیں اور انہوں نے دوسری مرتبہ امتحان دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔
امریکی قانون کے تحت صرف قانون کی ڈگری حاصل کرنا عموماً وکالت کی باقاعدہ اجازت کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ متعلقہ ریاست کے بار میں داخلہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
خود کو وکیل کہنے کا دفاع
کیٹی زکریا نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانونی شعبے سے وابستہ افراد سے مشورہ کیا تھا، جن کے مطابق وہ اپنی قانون کی ڈگری اور قانونی تجزیے کے تجربے کی بنیاد پر خود کو وکیل کہہ سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ باقاعدہ قانونی مشورہ فراہم کرنے کا دعویٰ نہ کریں۔
تاہم، ان کے اس مؤقف کے بعد قانونی ماہرین اور مبصرین کے درمیان ان کی پیشہ ورانہ شناخت اور قانونی حیثیت سے متعلق بحث جاری ہے۔
پہلی پریس بریفنگ بھی زیرِ بحث
کیٹی زکریا کی وائٹ ہاؤس میں پہلی پریس بریفنگ بھی تنقید کی زد میں آئی۔ رپورٹس کے مطابق بریفنگ مختصر رہی اور انہوں نے محدود تعداد میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔ بعض مبصرین نے ان کی کارکردگی پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ صدر ٹرمپ نے ان کی بریفنگ کو سراہا۔
کیٹی زکریا کی قانونی اسناد سے متعلق تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں ان کی ذمہ داریوں اور میڈیا کے ساتھ ان کے کردار پر بھی سوالات کیے جا رہے ہیں۔









