یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان 24 اکتوبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والا سربراہی اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے، جبکہ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
یورپی کونسل نے اپنے بیان میں اجلاس ملتوی کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی تاریخ مناسب وقت پر بتائی جائے گی۔ تاہم بیان میں اجلاس ملتوی کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔
سکیورٹی خدشات کا امکان ظاہر کردیا گیا
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل برسلز میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر بلغاریہ کے وزیراعظم رومن رادیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاض میں ہونے والا سربراہی اجلاس ملتوی کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ طور پر سکیورٹی سے متعلق خدشات ہوسکتے ہیں۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں اور پروازوں کی منسوخی کو بھی اجلاس ملتوی ہونے کی ممکنہ وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے، تاہم یورپی کونسل نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
اجلاس میں کن معاملات پر بات ہونا تھی؟
سربراہی اجلاس میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں کو باہمی تعلقات، مشترکہ مفادات اور مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو اہمیت حاصل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بھی اس مشاورت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
سعودی عرب میں ایک اور اہم تقریب بھی ملتوی
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے بھی یمن کے حوثیوں کے متعدد حملوں کے بعد نمائشی ٹینس ٹورنامنٹ ’سکس کنگز سلیم‘ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی نئی تاریخ اور اسے ملتوی کرنے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔









