پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں انٹربینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں مختلف رجحان دیکھا گیا، جہاں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مالی معاونت ملنے کی توقعات، ممکنہ سرمایہ کاری اور مالیاتی خسارے میں کمی سے متعلق مثبت معاشی اشاروں کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران ڈالر دباؤ کا شکار رہا۔
کاروبار کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 27 پیسے کم ہوکر 276 روپے 70 پیسے تک آگئی، تاہم بعد میں اس میں معمولی تبدیلی کے بعد کاروبار کے اختتام پر ڈالر ایک پیسے کی کمی سے 276 روپے 95 پیسے پر بند ہوا۔
اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھ گئی
اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر 13 پیسے مہنگا ہوکر 278 روپے 79 پیسے کی سطح پر پہنچ گیا۔
معاشی صورتحال کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں ریفائنری کے قیام میں ممکنہ سرمایہ کاری اور بیرونی مالی معاونت کی توقعات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی اصلاحات کے تسلسل اور بیرونی شراکت داری کو امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کی کوششوں سے بھی مالیاتی آمدن میں بہتری کی امیدیں وابستہ ہیں۔
یوں انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی کے باوجود اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھ گئی، جس سے دونوں مارکیٹوں میں مختلف رجحان دیکھنے میں آیا۔









