9

پی ٹی آئی سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، لیکن بات چیت غیرمشروط ہوگی: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، تاہم بات چیت غیرمشروط ہوگی۔ حکومت یہ مطالبہ قبول نہیں کرے گی کہ مذاکرات سے پہلے خیبرپختونخوا میں کیے گئے موجودہ اقدامات واپس لیے جائیں۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی میں اختیارات کے حوالے سے مماثلت پائی جاتی ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 وفاق کو مخصوص حالات میں صوبائی معاملات سے متعلق اختیارات دیتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران گورنر راج ختم کرنے یا موجودہ اقدامات واپس لینے کی پیشگی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے معاملے پر بھی اکتوبر میں کوئی بحث ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔

سہیل آفریدی کو مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے، رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات میں انہیں قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ضمانت حاصل کرنی چاہیے اور عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی نئی جیل میں سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ایک ساتھ رکھنے سے متعلق قیاس آرائیاں درست نہیں، کیونکہ ان کے بقول ایک ہی جیل میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ قیدیوں کو ایک ساتھ رکھا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی نے 20 لاکھ افراد کے ساتھ آنے کی بات کی تھی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے طنزیہ انداز میں کہا کہ ممکن ہے سہیل آفریدی اس وقت بھی ان افراد میں موجود ہوں یا ان کی گنتی کر رہے ہوں۔

خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح اولین ترجیح ہے، رانا ثنا اللہ

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ موجودہ انتظامی سیٹ اپ کے تحت بھی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے گی، کیونکہ صوبے کے عوام کی بہتری حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے اور صوبائی حکومت سے بارہا کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کے مطابق اسی معاملے پر حکومتی اقدامات کیے گئے۔

صوبائی کابینہ کے ارکان سے متعلق بیان پر بھی ردعمل

وزیراعظم کے مشیر نے گورنر خیبرپختونخوا کے اس بیان کا بھی ذکر کیا جس میں سہیل آفریدی کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لینے کی بات کی گئی تھی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کی گنجائش موجود ہے، لیکن مذاکرات کے لیے غیرمشروط طور پر بیٹھنا ہوگا۔ ان کے مطابق حکومت موجودہ اقدامات واپس لینے کو مذاکرات کی لازمی شرط تسلیم نہیں کرے گی۔