8

اپ ڈیٹ: سینیٹ اور قومی اسمبلی سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قراردادیں کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔ سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اس نفاذ کی قرارداد پیش کی، جس پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور بالآخر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث ہوئی، جہاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کا نفاذ ایک آئینی ضرورت اور تقاضا ہے جس کی کاپیاں اراکین کے ٹیبل پر رکھ دی گئی ہیں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ایمرجنسی مسترد کرنے کی قرارداد آئینی طور پر پیش نہیں ہو سکتی۔ اس موقع پر عابد شیر علی نے بانی پی ٹی آئی کی تصویر سینیٹ میں لانے پر اعتراض اٹھایا، جبکہ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی طارق فضل چوہدری کی پیش کردہ اس قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان چار گھنٹے سے زائد طویل بحث کے بعد اسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔