وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ نے ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے نئی کیبل روٹس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان نے صنفی ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے میں تیز ترین پیشرفت کی ہے اور گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران ملک میں 3 نئی سب میرین انٹرنیٹ کیبلز لینڈ کی گئی ہیں۔ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی کنیکٹیویٹی پلان کا ہر 15 دن بعد جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی جا چکی ہے اور فائبر براڈبینڈ ہوم پاسز کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ شزہ فاطمہ نے مزید بتایا کہ موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن 19 فیصد سے بڑھ کر اب 19 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور اسے 60 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے، جبکہ مارچ 2026 میں اسپیکٹرم کی نیلامی کے ذریعے ملک میں فائیو جی سروسز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔
4








