نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات آئین اور قانون کے مطابق ہیں، جبکہ صوبے کی ایڈوائزری کونسل کے ساتھ وفاقی حکومت مکمل تعاون کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی 6 ماہ بعد بحال ہوجائے گی، تاہم حکومت کی واپسی میں ایک یا دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیا اور کہا کہ دونوں جانب سے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں کی گئیں، لیکن جس رات معاہدے پر دستخط ہونا تھے، وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے انکار کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مفاہمت کے لیے دونوں فریقوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ضروری ہوتا ہے، تاہم ان کے بقول خیبرپختونخوا میں حالات درست سمت میں نہیں جارہے تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت سیاسی اختلافات سے زیادہ اہم مسئلہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
خیبرپختونخوا کو 800 ارب روپے ملے، رقم کہاں خرچ ہوئی؟ اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے این ایف سی کے تحت ایک فیصد اضافی حصہ دیا گیا، جس کے ذریعے صوبے کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس سے انسدادِ دہشت گردی کے اداروں، خصوصاً سی ٹی ڈی، اور فرانزک سہولیات کو کس حد تک بہتر بنایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اتنے وسائل کی فراہمی کے باوجود صوبے میں دہشت گردی کے مسئلے پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث وفاقی حکومت مزید تاخیر کی متحمل نہیں ہوسکتی۔
پی ٹی آئی سے چار مطالبات کیے گئے تھے، اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے ذریعے سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کے سامنے چار مطالبات رکھے گئے تھے۔ ان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی، دہشت گردی کی واضح مذمت، وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون اور مخصوص اضلاع میں ایمرجنسی کا نفاذ شامل تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان مطالبات پر مثبت جواب نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے مزید انتظار کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی مفاہمت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
نائب وزیراعظم نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کی تقاریر میں ایسے بیانات سامنے آئے جن سے ملک کے خلاف اشتعال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک میں فوجی تنصیبات پر حملوں کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
ایڈوائزری کونسل سے مکمل تعاون کریں گے، اسحاق ڈار
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے لیے قائم ایڈوائزری کونسل میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ صوبے کے صحت اور دیگر انتظامی مسائل حل کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اس کونسل کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب تک صوبے میں زمینی حالات بہتر نہیں ہوتے اور عوامی وسائل ان کی فلاح پر خرچ ہونے کے حوالے سے بہتری نہیں آتی، تب تک سیاسی معاملات کی بحالی کے لیے انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں کیے گئے اقدامات آئین و قانون کے مطابق ہیں اور حکومت تمام معاملات کا جائزہ لے گی۔ سینیٹ کا اجلاس بعد ازاں اگلے روز شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔









