کراچی: کراچی کے مبینہ منشیات فروشی کے نیٹ ورک سے جڑی ملزمہ اور ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے سیشن عدالت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج منشیات کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائر کر دی ہے۔
نوٹس جاری: سیشن عدالت نے ملزمہ کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265 کے تحت دائر کردہ بریت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔
وکیل کا مؤقف: ملزمہ کے وکیل میر ہدایت اللہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں انمول پنکی کے خلاف کوئی ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود نہیں ہیں، اس لیے انہیں اس مقدمے سے بری کیا جائے۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل انمول پنکی کو گزری تھانے میں درج تین مقدمات میں بھی عدالتوں کی جانب سے بری کیا جا چکا ہے۔
سہولت کار مفرور اور بھائی اشتہاری: عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس مقدمے میں ملزمہ کے دو مبینہ سہولت کار ضمانت پر رہائی کے بعد سے مفرور ہو چکے ہیں، جبکہ انمول پنکی کے بھائی کو عدالت پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔
واضح رہے کہ انمول عرف پنکی کا نام اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب مئی 2026 میں پولیس اور سی ٹی ڈی نے کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک کارروائی کے دوران انہیں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ حکام نے ان کے قبضے سے منشیات اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ملزمہ نے پولیس کے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں کراچی منتقل کرنے سے پہلے لاہور میں حراست میں رکھا گیا تھا۔









