وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خیبرپختونخوا میں وفاقی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق نے آئین کے تحت کارروائی کی ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے حالات اور دونوں صوبوں کی حکومتوں کے کردار کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
بلوچستان اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئین بنانے والے اکابرین نے مستقبل کے ممکنہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کا معاملہ صرف امن و امان تک محدود نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق سوالات بھی اہم ہیں۔
خیبرپختونخوا میں حکومتی کردار پر سوالات ہیں، سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ ایک سیاسی جماعت نے دہشت گردی کے معاملے پر ہمیشہ نرم پالیسی اختیار کی۔ ان کے بقول، خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال اور حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، مؤثر قانون سازی اور واضح قومی مؤقف کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑ رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں حکومتی کردار کے حوالے سے مختلف سوالات موجود ہیں۔
بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں نے قربانیاں دیں، وزیراعلیٰ
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ریاستی اداروں کی معاونت اور واضح حکومتی مؤقف کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔
انہوں نے ماضی کے دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو، بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے سے متعلق واقعات کے ذمہ داروں کو واپس بلانے کی باتیں کون کرتا رہا تھا؟
وفاقی اقدام کی حمایت، آئینی اختیار کا حوالہ
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے وقت دونوں صوبوں کے حالات، حکومتی کردار اور دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اقدام آئین کے تحت کیا گیا ہے اور بلوچستان حکومت اس کی حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں وفاقی اقدام اور اس کے آئینی جواز پر سیاسی بحث جاری ہے، جبکہ سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں صوبائی حکومتوں کی پالیسیوں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اس معاملے کا اہم پہلو قرار دیا ہے۔









