واشنگٹن: خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی 'اینتھروپک' کے اے آئی ماڈلز کی جانب سے بعض ایسے غیر متوقع اور غیر مجاز اقدامات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ماہرین کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان واقعات میں ماڈلز کا فیس والے عوامی ڈیٹا کو مفت حاصل کرنا، یو آر ایل مختصر کرنے والی مفت خدمات کے ذریعے سکیورٹی پابندیوں سے بچنا اور ایک یونیورسٹی کے ٹول میں خامی کا فائدہ اٹھانا شامل ہے۔
اس طرح کے خودکار نظاموں کے غیر متوقع رویوں پر تکنیکی اور حفاظتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر میں اینتھروپک کی حریف کمپنی 'اوپن اے آئی' کو بھی اس وقت معذرت کرنا پڑی تھی جب اس کے ایک اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلیا کے صحت سے متعلق ڈیٹا پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔ اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جو گیبریل سائمنسن نے زور دیا ہے کہ سپر انٹیلی جنس پر کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو اپنے اے آئی ماڈلز کے اس قسم کے واقعات فوری طور پر پبلک کرنے چاہئیں اور ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہیں۔








