12

وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نفاذ کی منظوری

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اتوار کے روز اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا کی ابتر امن و امان کی صورتِ حال، سیکیورٹی رپورٹس اور سیاسی بحران پر تفصیلی غور کے بعد صوبے میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر اہم وفاقی وزرا نے شرکت کی۔ کابینہ نے صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے مبینہ لاتعلقی اور بڑھتے ہوئے امن و امان کے چیلنجز پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم، حتمی اقدامات سے قبل سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے ذریعے ثالثی کی آخری کوشش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطہ بھی کیا ہے۔

اہم فیصلے اور آئینی لائحۂ عمل

انتظامی کنٹرول: گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کی انتظامی باگ ڈور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سنبھالیں گے۔

خصوصی سیکرٹریٹ اور اضلاع: سابق فاٹا کے 8 اور جنوبی اضلاع (کرم، وزیرستان، باجوڑ، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت 12 اضلاع) کے لیے ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی تعینات ہوں گے۔

پارلیمانی توثیق: وفاقی حکومت کے ان فیصلوں کی آئینی توثیق کے لیے منگل کے روز پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

حساس اداروں کی سیکیورٹی رپورٹس کے انکشافات

اجلاس میں پیش کی گئی سیکیورٹی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد ہوشربا اضافہ ہوا ہے:

سال 2026 کے کل دہشت گرد حملوں کا 73 فیصد براہِ راست پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ہوا۔

دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملوں کی تعداد 2024 میں صفر سے بڑھ کر 2026 میں 170 تک پہنچ گئی ہے (تقریباً 107 فیصد اضافہ)۔

صوبائی پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں، سرویلنس آلات، نائٹ ویژن ڈیوائسز اور بکتر بند گاڑیوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔