3

حج اخراجات میں اضافے کے پیش نظر سیونگ پلان متعارف کرانے کی تیاری

 عازمین حج کے لیے مالی بوجھ کم کرنے اور حج اخراجات کی بروقت ادائیگی آسان بنانے کے لیے ماہانہ بچت پر مبنی حج سیونگ پلان متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ سیکرٹری مذہبی امور نے متعلقہ حکام کو اسکیم کے قواعد و ضوابط دو ماہ کے اندر تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری مذہبی امور کی زیر صدارت حج سیونگ پلان سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں عازمین حج کو بتدریج رقم جمع کرنے کی سہولت فراہم کرنے اور مالی منصوبہ بندی کو آسان بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

ماہانہ بنیادوں پر رقم جمع کرانے کی سہولت

مجوزہ حج سیونگ پلان کے تحت عازمین ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے ہر ماہ اپنی استطاعت کے مطابق رقم جمع کرا سکیں گے۔ اسکیم میں بچت کی مدت منتخب کرنے اور خاندان کے افراد کے درمیان رقم منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ترجمان کے مطابق عازمین کو ضرورت پڑنے پر اپنی جمع شدہ رقم بغیر کسی کٹوتی کے واپس لینے کی سہولت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی شرائط اسکیم کے قواعد و ضوابط مرتب ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

اسکیم کے قواعد دو ماہ میں تیار کرنے کی ہدایت

اجلاس کے دوران سیکرٹری مذہبی امور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حج سیونگ پلان کے تمام قواعد و ضوابط دو ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ اسکیم کے عملی نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔

حکام کے مطابق اسکیم کا مقصد عازمین کو حج کے اخراجات کے لیے پہلے سے بچت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ یکمشت بڑی رقم جمع کرنے کے بجائے بتدریج اپنے اخراجات پورے کرنے کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

عمرہ اور دیگر مذہبی زیارات کیلئے بھی بچت اسکیم پر غور

وزارت مذہبی امور کے مطابق حج کے علاوہ عمرہ اور دیگر مذہبی زیارات کے اخراجات کے لیے بھی بچت اسکیم متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مذہبی سفر کے لیے پیشگی مالی منصوبہ بندی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

وزارت نے واضح کیا ہے کہ حج سیونگ پلان کی ماہانہ کم از کم رقم، رجسٹریشن کا طریقہ کار، شرائط اور آغاز کی تاریخ سے متعلق حتمی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ حج سیونگ پلان کا تصور پاکستان کی حج پالیسی 2027–2030 میں بھی شامل ہے، جس کے تحت شرعی اصولوں کے مطابق بچت اسکیم متعارف کرانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ فی الحال مجوزہ اسکیم کے عملی آغاز اور حتمی شرائط کا اعلان ہونا باقی ہے۔