یونان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 40 پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کرکے خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ وطن واپس آنے والے افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے، جن میں منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ شامل ہیں، جبکہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والا ایک شہری بھی ڈی پورٹیز میں شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ تمام افراد لیبیا کے راستے غیر قانونی طور پر یونان میں داخل ہوئے تھے، جہاں انہیں مختلف حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا۔
ایئرپورٹ پر تمام افراد کی جانچ پڑتال
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے واپس آنے والے پاکستانیوں کے کوائف اور کیسز کا الگ الگ جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق بیشتر افراد قانونی طریقے سے ہوائی راستے کے ذریعے پاکستان سے روانہ ہوئے تھے، تاہم بعد میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کے دوران گرفتار ہوگئے۔
ایف آئی اے کی تحقیقات کا فیصلہ
حکام کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد سے متعلقہ ریجن کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے انسدادِ انسانی اسمگلنگ سیلز تحقیقات کریں گے۔ تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے مبینہ سہولت کاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے اہم ہدایت
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک سفر کے لیے قانونی طریقہ اختیار کریں اور سفری دستاویزات مستند ذرائع سے حاصل کریں۔ حکام کے مطابق ہوائی اڈوں پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال سختی سے جاری ہے، جبکہ اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس پر پری ویریفکیشن کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں مسافر سفر سے پہلے اپنی دستاویزات کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔









