خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، ایمرجنسی پلس یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں کل اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور دستیاب آئینی و انتظامی آپشنز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تمام متعلقہ شراکت دار شرکت کریں گے، جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس بھی زیر غور آئیں گی۔ مشاورت کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز زیر غور
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا کے تمام اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مجوزہ اقدامات کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے اہم اختیارات استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 کے تحت دستیاب اختیارات، ان کے قانونی تقاضوں اور ممکنہ نتائج پر بھی مشاورت متوقع ہے۔ تاہم، تاحال ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ کے تناظر میں اہم مشاورت
خیبرپختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات پر غور ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان اور سکیورٹی صورتحال پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مطالبات کے لیے مارچ جاری رکھنے پر زور دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات کو بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق کیا مؤقف ہے؟
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی حکومتی نمائندے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ اس سے قبل بھی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی آپشنز پر غور کرنے سے متعلق بیانات سامنے آ چکے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت سکیورٹی پالیسی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر وفاق سے اختلافات رکھتی ہے۔
اب وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق سکیورٹی رپورٹس، انتظامی معاملات اور آئینی تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ حتمی فیصلے کا اعلان ہونے تک ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو طے شدہ اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔









