5

پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے مولانا فضل الرحمان متحرک، وزیراعظم سےجلد رابطےکا امکان

وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان جلد ٹیلی فونک رابطے کا امکان ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی بحالی کیلئے کردار ادا کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری ڈیڈلاک ختم کرانے اور سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی کے بجائے افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو صورتحال سے آگاہ کردیا ہے۔ وفد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مصالحانہ کردار کیلئے پیش کی گئی شرائط سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا اور ان کا خصوصی پیغام پہنچایا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے حکومت سے مذاکرات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ سے علامہ راجا ناصر عباس سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں حکومت سے مذاکرات اور آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔