چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومتی عدم تعاون اور عدم سنجیدگی کے باعث مذاکرات کے مسودے پر حتمی اتفاق نہیں ہوسکا، حکومت نے مذاکرات کے دوران کسی ایک تجویز پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔
سوات میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وزیراعظم کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کی ملاقات اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی تجویز دی تھی۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ بیانیے پر بھی بات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات جنگوں کے دوران بھی ہوتے ہیں، اگر حکومت مذاکرات میں مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں، تاہم حکومت کی جانب سے مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا سلسلہ رکا نہیں، پارٹی پرامن ہے اور پرامن احتجاج کرنا اس کا حق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر زیرو ٹالرنس ہونی چاہیے، تاہم دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا میں مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لیے انتظامی افسران کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے ڈپٹی کمشنرز دفعہ 144 کے نفاذ سمیت دیگر فیصلے کسی اور کے کہنے پر کر رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کی موجودگی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کو 2 کروڑ ووٹ ملے لیکن اس کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 76 ارکان قومی اسمبلی، 25 سینیٹرز اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے 197 ارکان صوبائی اسمبلی بائیکاٹ کریں گے۔









