2

لوئر دیر کے پہاڑی علاقوں میں بخار سے متعدد اموات ہو گئیں 4 روز میں 7 افراد انتقال کر گئے

خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے پہاڑی علاقوں میں پراسرار بخار کے باعث چار روز کے دوران 7 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں 5 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق برمکے، بوچکے اور شادام کے علاقوں میں ہر سال ماہِ ستمبر میں اس طرح کی پراسرار وباء سے اموات کا سلسلہ سامنے آتا ہے۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) نے صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے بتایا ہے کہ برمکے میں جاں بحق ہونے والے دو بچے نوزائیدہ تھے جبکہ انتقال کرنے والی خاتون پہلے سے ٹی بی کی مریضہ تھیں۔ ڈی ایچ او کے مطابق دو نوجوان گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کے باعث پشاور کے اسپتال میں زیرِ علاج رہے ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں سے طبی نمونے (سیمپلز) اکٹھے کر کے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور حتمی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت نے ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے متعلقہ علاقوں میں اسپرے کرا دیا ہے اور اس پراسرار مرض کی وجوہات جاننے کے لیے صحت، لائیو اسٹاک اور پبلک ہیلتھ پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔