وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی واپسی اور ان کی دوبارہ آبادکاری کے معاملے پر وفاق کو بارہا خبردار کیا گیا لیکن صوبائی حکومت کے بیانات کو ہمیشہ پروپیگنڈا قرار دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے لیے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں، لیکن دو دہائیوں کی محنت سے حاصل ہونے والا امن خراب کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے 35 ارب روپے کٹوتی کر کے پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے اور فورس کو جدید اسلحے اور آلات سے لیس کیا جا رہا ہے، تاہم صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ وفاق کو اپنی 22 سال پرانی ناکام پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر بنائی گئی ان کی تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کر کے 100 دن میں صوبے میں امن بحال کیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
6









