5

بے خوابی کے عارضے سے فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے: نئی تحقیق

مسلسل بے خوابی صرف تھکن اور دن بھر کی کمزوری کا باعث نہیں بن سکتی بلکہ نئی تحقیق میں اس کا تعلق فالج کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی سامنے آیا ہے۔

جرنل Sleep Medicine Reviews میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق بے خوابی کا سامنا کرنے والے افراد میں فالج کا خطرہ تقریباً 26 فیصد زیادہ پایا گیا۔ یہ نتائج 9 تحقیقی مطالعات اور مجموعی طور پر 13 لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہیں۔

تحقیق کے مطابق بے خوابی کے شکار افراد میں کسی بھی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے کے امکانات بھی تقریباً 28 فیصد زیادہ تھے۔ اس مقصد کیلئے پانچ مطالعات کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

محققین نے بے خوابی اور دماغی و عمومی صحت سے متعلق مختلف نتائج کا جائزہ لیا، جس میں فالج، ڈیمنشیا، ڈپریشن، خودکشی کے رویوں، اموات، کام کی جگہ حادثات اور اسپتال میں داخلے جیسے عوامل شامل تھے۔

تحقیق میں بعض دیگر دماغی و ذہنی صحت کے مسائل کے ساتھ بھی بے خوابی کا تعلق سامنے آیا، تاہم تمام طبی نتائج کیلئے شواہد یکساں نہیں تھے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق میں سامنے آنے والے نتائج تعلق یا وابستگی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس بات کا حتمی ثبوت نہیں دیتے کہ بے خوابی براہِ راست فالج کا سبب بنتی ہے۔ بے خوابی کی مختلف تعریفیں اور دیگر ممکنہ عوامل، بشمول نیند کی ادویات کا استعمال، نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق نیند کو دماغی اور مجموعی صحت کے اہم حصے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اور مستقل بے خوابی کی صورت میں اس مسئلے پر توجہ دینا ضروری ہے۔