4

اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو عہدے سے فارغ

فارماسیوٹیکل صنعت کی جانب سے مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال، غیرقانونی مطالبات اور کمپنیوں کو ہراساں کرنے کی شکایات کے بعد محکمہ صحت سندھ نے ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کو ان کی موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیو کردیا۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق غلام علی لاکھو کو محکمہ صحت کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ان کے پاس موجود چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کا اضافی چارج بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے 10 ستمبر 2026 کو چیف سیکریٹری سندھ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو شکایت ارسال کی تھی، جس میں غلام علی لاکھو پر مبینہ طور پر اختیارات کے غلط استعمال اور فارما کمپنیوں کی قانونی کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

شکایت میں پی پی ایم اے نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض کمپنیوں کو مبینہ طور پر اسٹاک ضبط کرنے، کاروبار سیل کرنے، ادویات کی فروخت روکنے اور قانونی کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ ان اقدامات کے لیے مطلوبہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

پی پی ایم اے کے مطابق ایسے اقدامات سے ادویات کی سپلائی متاثر ہونے اور مارکیٹ میں ضروری ادویات کی قلت کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑنے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد وزیر صحت کی منظوری سے غلام علی لاکھو کو موجودہ ذمہ داریوں سے ریلیو کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس پر سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ پی پی ایم اے نے اپنی شکایت کی نقول وزیراعلیٰ سندھ، وزیر صحت، محکمہ اینٹی کرپشن، ایف آئی اے، ڈریپ اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ارسال کی تھیں۔