پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا ہے کہ صوبے کو پنجاب سے ملانے والے پل کو ناقابلِ رسائی بنا کر کیا خیبر پختونخوا کو توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ستائیس ستمبر کو متوقع لانگ مارچ کے حوالے سے عزم ظاہر کیا کہ عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج ہر صورت جاری رہے گا، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے اسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقات کر کے لانگ مارچ کی تیاریوں اور سیاسی حکمتِ عملی پر مشاورت کی۔ دوسری جانب سخت سکیورٹی تھریٹس کے باوجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے خالی کرائے گئے سول سیکرٹریٹ کا دورہ کیا اور چیف سیکرٹری کے ہمراہ وہاں مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گرد ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر ہرگز سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ سیاسی بحران اور سکیورٹی صورتحال کی تمام تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔
15









