3

لاہور ہائیکورٹ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کے ساتھ نمٹا دی

لاہور ہائیکورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دینے کے لیے دائر کردہ اعتراضی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہری نذیر احمد کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی اور کیس نمٹا دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کو سپریم کورٹ میں پہلے سے زیرِ سماعت کیس کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن ایک بھی دستاویز منسلک نہیں کی گئی، اور یہ درست طریقہ کار نہیں ہے کہ ایک ہی مسئلے پر ملک بھر کی عدالتوں میں الگ الگ درخواستیں دائر کر دی جائیں۔ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے بھی اس اعتراض کا اظہار کیا تھا کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے ہائیکورٹ میں اس کی سماعت نہیں کی جا سکتی۔ درخواست میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ چھبیسویں ترمیم آئین کے دیباچے اور آزاد عدلیہ کے اصولوں کے خلاف ہے، جس میں سنیارٹی کے اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے، جوڈیشل کمیشن میں اراکینِ اسمبلی اور وزرا کی شمولیت عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ ہے، اور چیف الیکشن کمشنر کی مدت میں توسیع بھی آئین کے منافی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ اس آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ موجودہ ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے اس دور میں عدلیہ سے متعلقہ اہم آئینی کیسز، عدالتی فیصلوں کی براہ راست خبریں اور قانونی تقاضوں کی تفصیلات آن لائن نیوز پورٹلز، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری طور پر عوام تک پہنچ جاتی ہیں، جس سے عدالتی کارروائیوں میں شفافیت اور آگاہی مزید بڑھ جاتی ہے۔