گوگل میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کے بانی اور سابق نائب صدر ٹام سیگل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا سے بھی زیادہ سنگین اور خطرناک مسائل پیدا کر سکتی ہے، اس لیے اے آئی کی ترقی کی رفتار میں کمی لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ”کامن سینس میڈیا“ کے تحت قائم کردہ ”یوتھ اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ“ کے پہلے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت بچوں کے تحفظ کے معاملے میں وہی غلطیاں دہرا رہی ہے جو اس نے ماضی میں سوشل میڈیا کے دور میں کی تھیں۔ سیگل کے مطابق اے آئی کے استعمال سے بچوں کو خودکشی سے متعلق مواد، شدید نفسیاتی مسائل، سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونے اور کگنیٹو آف لوڈنگ (مسلسل اے آئی پر انحصار کی وجہ سے خود نہ سوچنے کی عادت) جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ کمپنیاں خود ہی تمام حفاظتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ عمر کی تصدیق کے زیادہ مؤثر نظام نافذ کریں اور گوگل کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے سرچ انجن میں اے آئی اوور ویوز اور اے آئی موڈ کو بند کرنے کا واضح اختیار صارفین کو فراہم کرے۔ دوسری جانب گوگل، اوپن اے آئی اور دیگر تکنیکی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ، عمر کی شناخت اور مناسب کنٹرولز فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اے آئی کے تعلیمی فوائد بھی برقرار رہیں اور بچوں کو نقصان دہ مواد سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔
4








