3

میر رضا قتل کیس، عدالتی کمیشن کی تحقیقات میں اہم پیش رفت

تاجر میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کے سامنے مختلف کاروباری ساتھیوں اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرلیے گئے، جبکہ سماعت کے دوران سرمایہ کاری، مالی معاملات، واٹس ایپ چیٹس اور پولیس کو دیے گئے بیانات میں مبینہ تضادات کا جائزہ لیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم ایک رکنی کمیشن کے سامنے کاروباری ساتھی عابد فاروق، ان کے بھائی آصف، کاروباری شخصیت فیض الرحمن اور ملائیشیا سے ویڈیو لنک کے ذریعے سریم بن طاہر نے بیانات ریکارڈ کرائے۔

عابد فاروق نے بتایا کہ انہوں نے میر رضا کے ریسٹورنٹ اور گاڑیوں کی کوٹنگ کے کاروبار میں مجموعی طور پر کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی، تاہم سرمایہ کاری کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

سریم بن طاہر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا نے انہیں 3 کروڑ روپے سے متعلق ایک پیغام بھیجا تھا، جو بعد میں ڈیلیٹ کردیا گیا۔ سریم کے مطابق انہوں نے تفتیش کاروں کو میر رضا کے ساتھ گفتگو کے 25 اسکرین شاٹس بھی فراہم کیے تھے۔

کمیشن نے مکمل چیٹ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر فوکل پرسن کو تمام متعلقہ ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔

سماعت کے دوران گواہوں کے پولیس بیانات اور کمیشن کے سامنے دیے گئے بیانات میں مبینہ فرق کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیشن نے اس بات پر سوالات اٹھائے کہ بعض معلومات پولیس ریکارڈ میں کس طریقہ کار کے تحت شامل ہوئیں۔

اے ایس پی ندا سے بھی اہم سوالات

عدالتی کمیشن نے اے ایس پی ندا سے میر رضا کیس میں ان کے کردار، علی شاز سے رابطے اور تفتیشی ٹیم کو پیغامات فارورڈ کرنے سے متعلق بھی سوالات کیے۔

اے ایس پی ندا نے بتایا کہ وہ کیس کی باقاعدہ تفتیشی ٹیم کا حصہ نہیں تھیں، تاہم ان سے رابطہ کرنے والے افراد کی بات سننا ان کی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے علی شاز کا پیغام تفتیشی ٹیم کو بھیجنے کی تصدیق کی، تاہم میڈیا کو وائس نوٹ فراہم کرنے کی تردید کردی۔

کمیشن نے ندا کے کیس میں مبینہ طور پر مداخلت کرنے اور علی شاز سے رابطوں کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔

دوسری جانب میر رضا علی کے والدین کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میڈیکل بورڈ عدالت کے احکامات پر بنایا گیا، تاہم بورڈ کے کسی رکن کا بیان اب تک ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

کیس کی سماعت کے دوران مزید شواہد، چیٹ ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔