وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو کسی بھی صورت میں اسلام آباد میں داخل ہو کر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مار دھاڑ اور تشدد کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس موقع پر پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کھل کر دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتی، خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے ان کی حکومت ہے لیکن کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نظر نہیں آیا اور صوبے کے وسائل جلسے جلوسوں پر اڑائے جا رہے ہیں، جبکہ فرانزک لیبارٹریز کے لیے بھی خیبر پختونخوا کو پنجاب کی مدد لینی پڑتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز نے نیشنل ایکشن پلان کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو این ایف سی کی مد میں ساڑھے آٹھ سو ارب روپے فراہم کیے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ وفاق کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ صوبے کو گورنر راج کی نہیں بلکہ عوامی راج کی ضرورت ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سانحہ کوہاٹ میں افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی جس کا بھرپور جواب دے دیا گیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ اس پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی خوشخبری سنائی کہ 9 مئی کے واقعات میں جلائے جانے والے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو دوبارہ تعمیر کر کے اس کا افتتاح کر دیا گیا ہے جہاں اب نئے اسٹوڈیوز قائم کیے گئے ہیں تاکہ صحافی اپنے پوڈ کاسٹ اور دیگر امور انجام دے سکیں، کیونکہ مسلم لیگ ن آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ عصر حاضر میں اس طرح کے اہم سیاسی بیانات اور حکومتی پریس کانفرنسز کی تمام تفصیلات تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فوری طور پر عوام تک پہنچ جاتی ہیں۔









