13

دہشت گردی اور ہماری قومی حکمتِ عملی

وطن عزیز گزشتہ تقریباً ربع صدی سے دہشت گردی کی اس ہولناک لپیٹ میں ہے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو گہرے زخم دیے ہیں۔ سانحہ 9/11 کے بعد جب پاکستان نے عالمی دباؤ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا، تب سے لے کر آج تک ہماری دھرتی مسلسل لہولہان ہے۔ خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے صوبے گزشتہ دو دہائیوں سے اس بدترین عفریت کا ہدف بنے ہوئے ہیں، جہاں ہر روز امن کی آشا دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف عام شہریوں کے دلوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں، بلکہ خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ایک سوچی سمچی سازش کے تحت ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اس سفاکانہ تسلسل کی تازہ اور دل دہلا دینے والی کڑی چند روز قبل کوہاٹ (خیبرپختونخوا) کے علاقے میں پشاور روڈ پر واقع پولیس لائنز کی مسجد میں پیش آنے والا سانحہ ہے۔ نمازِ جمعہ کے پُرشکوہ اور پُراسرار روحانی ماحول کو خون میں نہلا دیا گیا جب ایک دہشت گرد نے بارود سے بھری گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرا دی اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس ہولناک خودکش حملے کے ساتھ ہی دیگر دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی و پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس دل خراش سانحے کے نتیجے میں 21 نمازی جامِ شہادت نوش کر گئے، جن میں 15 فرض شناس پولیس اہلکار اور 6 معصوم عام شہری شامل تھے، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 6 حملہ آور دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے اس اندوہناک واقعے میں 103 افراد شدید زخمی بھی ہوئے، جو ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اس روح فرسا واقعے کے بعد صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کوہاٹ سانحے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے پوری قوم کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک اپنی بھرپور کارروائیاں جاری رکھے گی، جو بلاشبہ ایک حوصلہ افزا اور عزمِ نو کا پیغام ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے ناہموار خطوں میں پولیس، پاک فوج اور دیگر ادارے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نام نہاد کارندوں کے خلاف مشترکہ اور منظم آپریشنز میں مصروف ہیں۔ ان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو خاص اہمیت حاصل ہے، جن کے ذریعے بیرونی آقاؤں کی پشت پناہی حاصل کرنے والی بھارتی پراکسیز اور فتنہ الخوارج کے چھپے ہوئے عناصر کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم، ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ مذکورہ دونوں صوبوں میں پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اب تک لاتعداد بڑے اور چھوٹے آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آپریشن راہِ حق، آپریشن راہِ نجات، آپریشن ردالفساد، آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن راہِ راست جیسے تاریخی اور فیصلہ کن فوجی معرکے اس طویل عزم کی گواہی دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف صفِ آرا ہونے کا یہ کٹھن سفر گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، اور آج بھی دونوں صوبوں میں پاک فوج اور پولیس شانہ بشانہ برسرِ پیکار ہیں۔ اس کے باوجود، اس ناسور سے مکمل نجات کی راہ تلاش کرنا آج بھی ایک ایسا خواب بنا ہوا ہے جس کی تعبیر پانا بظاہر جوئے شیر لانے کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔

ملک میں جاری دہشت گردی کے ان خون آشام واقعات کے پس پردہ محرکات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اندرونِ وطن موجود بظاہر ہمارے اپنے ہم وطن سہولت کار اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں، وہیں بیرونی مداخلت اور تخریب کاری کے عناصر کو بھی ہرگز نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت گزشتہ برسوں میں پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر ہزیمت اٹھانے کے بعد اب افغانستان کی سرزمین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف ایک خاموش پراکسی وار میں بدستور ملوث ہے۔

دوسری جانب، افغان طالبان کی حکومت کو پاکستان کی طرف سے اعلیٰ ترین سفارتی اور عسکری سطح پر بارہا یہ واضح کیا جا चुका ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اس کے باوجود کابل کی طرف سے اس ضمن میں کوئی مثبت، عملی اور تسلی بخش رویہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ رواں ماہ کے اوائل میں بھی پاک افغان سرحد پر دراندازی کی ایک ایسی ہی مذموم اور ناکام کوشش کی گئی، جسے آئی ایس پی آر کے مطابق 36 گھنٹے طویل اور کٹھن کارروائی کے بعد ناکام بنا دیا گیا اور خوارجی عناصر کو منہ کی کھانا پڑی۔

اس تمام پس منظر میں ایک نہایت اہم اور قابلِ غور پہلو حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق، بلوچستان میں امن و امان کی طوات پر عسکری حکام اور اہم میڈیا نمائندگان کے درمیان ایک خصوصی اور طویل نشست منعقد ہوئی، جس میں ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بلوچستان کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے روایتی ڈگر سے ہٹ کر ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی اپنانے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔ ان کا صاف الفاظ میں کہنا تھا کہ بلوچستان میں صرف گولی یا طاقت سے نہیں، بلکہ سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات کے ذریعے ہی مستقل امن لایا جا سکتا ہے۔ مبصرین، سنجیدہ تجزیہ نگار، نامور سیاستدان اور معاشرے کا صائب الراۓ طبقہ عرصے سے اسی حقیقت کو اجاگر کرتا چلا آ رہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ افہام و تفہیم اور سیاسی تدبر کا راستہ بھی اپنایا جائے۔ امن کے قیام کے لیے اگر کچھ غیر روایتی اور غیر معمولی اقدامات اٹھانا بھی پڑیں، تو ریاست کو اس سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

پاک افغان سرحد پر پیش آنے والے مسلسل اور دل خراش واقعات نے ایک بار پھر اس دیرینہ مؤقف کی بھرپور تصدیق کر دی ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت، اپنی سرپرستی میں کام کرنے والی اور سرحد پار سے حملے کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کو روکنے میں بری طرح ناکام یا پھر ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ تاہم، دوسری طرف پاکستان کی غیور اور باوقار سیکیورٹی فورسز اپنی مادرِ وطن کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے جس عزم، استقلال اور جرات کا مظاہرہ کر رہی ہیں، وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ دہشت گردی اور سفاکانہ تشدد کے خلاف ریاست کی یہ آہنی کارروائی اس لیے بھی سو فیصد ناگزیر ہے کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں شہریوں کی جان و مال، حساس تنصیبات اور معاشی سرگرمیوں کو چند خونخوار درندوں کے خوف اور رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غازیوں اور شہداء نے جس پامردی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے ہیں، وہ پوری قوم کے احترام اور سلام کی مستحق ہے۔ اب وقت کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی، بہتر اور بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ، تمام اداروں کے مابین موثر اشتراکِ عمل، مضبوط سرحدی باڑ اور نگرانی کے نظام کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر معلوماتی نیٹ ورک کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ دہشت گردی کا اصل اور مؤثر مقابلہ صرف ردِ عمل کی حد تک محدود رہنے سے نہیں بلکہ ایک پیشگی اور فعال حکمتِ عملی (Proactive Strategy) کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ریاست جس قدر جلد کسی خطرے کے پیدا ہونے سے پہلے اس کی جڑ اور نوعیت کو بھانپ لینے کی صلاحیت پیدا کرے گی، اتنی ہی جلدی معصوم شہریوں کے قیمتی جانی نقصان کو روکا جا سکے گا۔

آج کی بدلتی ہوئی اور پیچیدہ دنیا میں پاکستان کو صرف ایک ایسا ملک نہیں بننا چاہیے جو مسلسل پیدا ہونے والے بحرانوں کا صرف روایتی ردِ عمل دیتا رہے، بلکہ اسے ایک ایسی طاقت بننا ہوگا جو ان بحرانوں کی جڑوں کو ہی کاٹ پھینکے اور روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرے۔ اس بلند ہدف کے حصول کے لیے سفارت کاری میں تسلسل، علاقائی سلامتی کے تعاون میں عملی پن، اقتصادی پالیسی میں دوراندیشی اور سب سے بڑھ کر داخلی سطح پر انتہاپسندی کے خلاف ایک جامع اور مربوط قومی بیانیہ ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بسا اوقات بارود اور میزائلوں سے شروع ضرور ہو جاتی ہیں، مگر ان کا حتمی اور پائیدار اختتام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ اس لیے عقل مندی اور دوراندیشی کا تقاضا یہی کہتا ہے کہ اس حتمی میز تک پہنچنے کے لیے مزید بے گناہ لاشوں، اجڑے ہوئے گھروں اور تباہ حال شہروں کا انتظار کرنے کی بجائے ابھی سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں۔ آخر میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ آج کا دہشت گرد صرف کسی دور دراز پہاڑی غار، افغانستان کی پٹی یا کسی خفیہ روایتی ٹھکانے تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ ڈیجیٹل دنیا اور سوشل میڈیا کے پُرفریب جال میں بھی پوری طرح سرگرم ہے۔ جہاں ایک واحد نفرت انگیز پیغام، ایک انتہاپسندانہ ویڈیو یا کوئی خفیہ آن لائن نیٹ ورک بسا اوقات سیکڑوں میل دور بیٹھے نادان افراد کو ایک ہی تخریب کار مقصد کے لیے پل بھر میں متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ریاست کو اپنے روایتی عسکری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اس ڈیجیٹل اور فکری محاذ پر بھی پوری مستعدی سے لڑنا ہوگا، تب ہی جاکر ہمارے آنے والے کل کا پاکستان ایک پُرامن، روشن اور محفوظ گہوارہ بن سکے گا۔