45

پی ٹی آئی مارچ: اسلام آباد پولیس نے ہماری ایک ہزار گاڑیاں پکڑ رکھی ہیں، کرائے پر نہیں لیں: گڈز ٹرانسپورٹرز

اسلام آباد میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہزار سے زائد تجارتی گاڑیاں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے پولیس کی تحویل میں ہیں اور انہیں کرائے پر حاصل کیے جانے کا تاثر درست نہیں۔ یہ دعویٰ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر اویس چودھری ایڈووکیٹ نے کیا ہے۔

اویس چودھری کے مطابق کنٹینرائزڈ کارگو، فلیٹ بیڈ، اوپن باڈی، دس ویلر اور مزدا سمیت مختلف اقسام کی گاڑیاں روکی گئی ہیں، جن میں سے بیشتر سامان سے لدی ہوئی ہیں اور مختلف مقامات پر کھڑی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تاحال ٹرانسپورٹرز کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لوڈ گاڑیوں کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے اور جن دنوں تک گاڑیاں زیرِ حراست رہیں، ان کے عوض روزانہ 20 ہزار روپے کے حساب سے معاوضہ دیا جائے۔

ٹرانسپورٹرز نے ڈرائیورز کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں کھانے پینے اور واش روم کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اویس چودھری کے مطابق تجارتی گاڑیوں کو احتجاجی راستے روکنے کے لیے استعمال کرنے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ معاملہ اسلام آباد میں رواں ماہ متوقع سیاسی احتجاجوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے ان مخصوص دعوؤں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔